رنجیدہ خاطر

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - ملول، مغموم، جس کا دل مغموم ہو۔ "راشد صاحب آج میں وہ سب معلوم کرنا چاہتا ہوں جس کی بنا پر آپ اور ندیم قاسمی رنجیدہ خاطر ہوئے۔"      ( ١٩٨٢ء، ن، م، راشد، ایک مطالعہ، ٣٤ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ صفت 'رنجیدہ' کے ساتھ عربی اسم 'خاطر' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ملول، مغموم، جس کا دل مغموم ہو۔ "راشد صاحب آج میں وہ سب معلوم کرنا چاہتا ہوں جس کی بنا پر آپ اور ندیم قاسمی رنجیدہ خاطر ہوئے۔"      ( ١٩٨٢ء، ن، م، راشد، ایک مطالعہ، ٣٤ )